15 جون 2009 - 19:30

یہ سنہ 2004 کا واقعہ ہے جب یمن کے زیدی اہل تشیع نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف موقف اپنایا تو یمنی حکمرانوں نے انہیں کچلنے کی ٹھان لی اور سرکار یمن کی وحشیانہ کاروائیوں میں سینکڑوں زیدی اور اثنی عشری شیعیان اہل بیت (ع) جام شہادت نوش کرگئے۔

یہ داستان جاری ہے اور اس کا نےا مرحلہ شروع ہوا ہے اور امریکہ جو یمنی حکمرانوں کے ہاتھوں اہل تشیع کی سرکوبی سے مأیوس ہوچکا ہے سعودی حکمرانوں کو مجبور کرچکا ہے کہ وہ اپنی نابودی سے قبل ہی القاعدہ کو ساتھ لے کر شیعیان یمن کی سرکوبی کا اہتمام کرے چنانچہ سعودی عرب اور القاعدہ یمنی حکمرانوں کی مدد کو گئے ہیں اور شیعیان یمن کے خلاف امریکی امداد لے کر لڑ رہے ہیں البتہ اردن اور مصر بھی بے نصیب نہیں رہے اور انہیں بھی اپنے فوجیوں کی لاشیں یمن سے اٹھا کر لانی پڑی ہیں۔

حقوق انسانی کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی ہی نہیں بلکہ ان غیر انسانی کاروائیوں میں برابر کے شریک ہیں؛ اس وقت شیعیان یمن عرب اور مغربی دنیا میں زبردست تشہیراتی مہم کا بھی شکار ہیں اور گوناگوں امریکی ہتھیاروں کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔

سنہ 2004 میں یمنیوں پر کئی بڑے حملے ہوئے اور شیعیان یمن وسائل نہ ہونے کے باوجود دارالحکومت صنعا تک پیش قدمی کرکے جنرل علی عبداللہ صالح کے لئے خطرہ بن گئے تو وہ قطر کی ثالثی سے اپنا وجود بچانے میں کامیاب ہوا اور اب پانچ سال گذرنے کے بعد وسیعتر انداز میں شیعیان یمن پر حملے ہورہے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ شیعیان یمن کو ہمیشہ کے لئے مزاحمتی قوت سے محروم کیا جائے، یمن میں اہل تشیع کی طاقت کا راستہ روکا جائے اور سعودی عرب میں شیعیان مظلوم کو حقوق مانگنے کے عمل سے روکا جائے مگر فوجی اورسیاسی ماہرین کے مطابق ان حملوں کا کوئی روشن نتیجہ قابل پیشین گوئی نہیں ہے۔

جغرافیہ اور آبادی کا ڈھانچہ:

یمن جزیرہ نمائے عرب کے انتہائی جنوب میں واقع ہے؛ یہ ملک شمال کی جانب سعودی عرب اور عمان کا ہمسایہ ہے اور مغرب کی جانب سے بحر احمر کے ساحل پر واقع ہے اور اس کے سمندر پار پڑوسی سومالیہ اور ایتھوپیا ہیں جب کہ جنوب اور مغرب کی جانب سے بحر ہند کے کنارے واقع ہے۔ اس ملک کے باشندے حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ہیں اور یہ ملک صدر اول سے ہی تشیع کی ترقی و ترویج کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں کے عوام اہل بیت علیہم السلام ولایت اور امامت کی پیروی کے حوالے سے مشہور ہیں۔

صوبہ صعدہ

 صوبہ صعدہ یمن کے شمال میں واقع ہے اور سعودی سرحد پر واقع ہے؛ یہ ایک کوہستانی علاقہ ہے جو دارالحکومت صنعا سے 243 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس صوبے کی آبادی کی اکثریت زیدی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔

یمن 1990 تک شمالی اور جنوبی یمن کی صورت میں دو حصوں میں بٹا رہا اور 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن متحد ہوئے اور 12 سال تک شمالی یمن کی صدارت کے عہدے پر براجماں رہنے والے جنرل علی عبداللہ صالح یمن کی تعمیر و ترقی کا نعرہ لگا کر متحدہ یمن کا تا حیات صدر بن بیٹھا۔ اس زمانے سے یمن میں ترقی کا عمل تو درکنار، یہ ملک متعدد بحرانوں سے دوچار رہا اور بڑی طاقتوں نے جنرل صالح کو بارہا اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا مگر کبھی یمن کی دستگیری کے لئے کسی نے بھی ہاتھ نہیں بڑھایا اور جنرل صالح عرب ممالک ممالک کے مالدار حکام کے ساتھ بیٹھ کرکے عیاشی کے مزے لوٹ کر اپنی مملکت ویراں میں بھی بادشاہوں کی سی زندگی گذارتا رہا مگر اس کی خوشیاں عرب کانفرنس ہالوں اور صنعا کے صدارتی محل کی چار دیواری تک محدود رہیں۔

یمن میں کوئی بھی سنجیدہ ترقیاتی منصوبہ نافذ نہیں ہوا اور ملک روز بروز غریب سے غریب تر ہوتا گیا اور یمنی آمر نے شمالی اور جنوبی یمن کے شافعی اور شیعہ باشندوں کو حقوق سے محروم کرکے صنعا اور اس کے نواح کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی مگر صنعا بھی یمن ہی کا شہر تھا اور غربت ملک پر غالب تھی چنانچہ صنعا کا چہرہ بھی تبدیل ہونے سے قاصر رہا۔

یمن کا سماجی ڈھانچہ

یمن کی 42 فیصد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے اور اہل تشیع زیدی، اسماعیلی اور اثناعشری مکاتب میں بٹے ہوئے ہیں۔ اہل تشیع کی اکثریت زیدیوں پر مشتمل ہے۔

اہل تشیع کو خاص طور پر بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور متحدہ یمن کی تشکیل کے بعد ان کے مسائل و مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً:

·         شیعیان یمن اپنے دینی مدارس کی تعمیر اور اپنے مذہب کے مطابق تعلیم و تربیت کا حق نہیں رکھتے۔

·         شیعیان یمن کو ہر بہانے سے گرفتار کرکے اذیت خانوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے علماء کو قسم قسم کے آزار و اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

·         اہل تشیع، خاص طور پر علمائے شیعہ کو عید غدیر اور دیگر دینی مراسمات منانے سے زبردستی روکا جاتا ہے

·         اہل تشیع کے مقدسات کی سرکاری طور پر توہین کی جاتی ہے اور نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ اور دینی و فقہی احکام کے رسالے علی الاعلان نذر آتش کئے جاتے ہیں۔

·         اہل تشیع کو اذیت و آزار پہنچانے، ان کے مقدسات کی توہین کرنے اور انہیں دینی اعمال و عبادات سے روکنے کے عمل میں سعودی وہابیت اور یمنی آمریت ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

شیعیان یمن کی اکثریت زیدیوں پر مشتمل ہے اور زیدی مذہب شیعہ، حنفی، اور معتزلی افکار کا آمیزہ ہے لیکن زیدیوں کی فقہ کے 90 فیصد تک مسائل اثنی عشری ـ جعفری فقہ کے ساتھ مشترک ہیں۔

زیـدی‌ پنجتن آل عبا علیہم السلام کی عصمت، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت بلافصل، امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں کی امامت اور آخر الزمان کے نجات دہندہ حضرت امام زمانہ (عج) پر راسخ ایمان و عقیدہ رکھتے ہیں۔

یمن کی کل آبادی تقریبا دو کروڑ کے لگ بھگ ہے اور ملک کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں کے شافعی مذہب کے پیروکاروں پر مشتمل ہے اور دوسرے درجے پر زیدی شیعہ ہیں جن کی آبادی 25 فیصد ہے جبکہ اثنی عشری شیعیان اہل بیت (ع) مذہبی اقلیت ہیں جو محرومیت کے لحاظ سے پہلے رتبے پر ہیں۔ شیعیان اثنی عشری صوبہ صعدہ اور دارالحکومت صنعا میں سکونت پذیر ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ اثنی عشری معاشرتی محرومیوں کے باوجود علمی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں اور یمن کے اکثر علماء، دانشوروں، اساتذہ، اور اطباء و مہندسین (انجنئیرز) کا تعلق اثناعشری مکتب سے ہے اور سرکاری یونیورسٹیوں کے اکثر اساتذہ بھی اثنا عشری ہیں۔

یمن کے اہل تشیع میں سے پچاس لاکھ سادات ہیں جو مجموعی طور پر 200 خاندانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے 90 فیصد حسنی سادات اور 10 فیصد حسینی سادات ہیں۔

الحوثی گروہ زیدیوں پر مشتمل ہے جو شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں سکونت پذیر ہیں؛ یہ لوگ بدرالدین حوثی سے منسوب ہیں اور حوثی کے نام سے مشہور۔ حوثی گروہ 1980 کی دہائی میں تشکیل پایا ہے اور اب تک اپنے حقوق کے حصول کی خاطر چھ مرتبہ تباہ کن حملوں کا نشانہ بنا ہیں۔